7 ستمبر، 2026، 11:23 AM

امریکی پابندیاں ایران کو جھکانے میں کیوں ناکام ہیں؟ الجزیرہ کا تجزیہ

امریکی پابندیاں ایران کو جھکانے میں کیوں ناکام ہیں؟ الجزیرہ کا تجزیہ

الجزیرہ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایران کے جغرافیائی محلِ وقوع، ہمسایہ ملکوں سے تعلقات اور متبادل تجارتی راستوں کے باعث امریکا کی سخت سے سخت پابندیاں بھی تہران کو جھکانے میں کامیاب نہیں ہوسکتیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، الجزیرہ نے ایک تجزیاتی رپورٹ میں امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں اور معاشی دباؤ کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکا اپنی حالیہ جنگوں میں اپنے بیشتر مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

رپورٹ میں افغانستان سے امریکی انخلا کے مناظر، ویتنام کی جنگ کے دوران امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں اور آخرکار پیرس معاہدے کے تحت امریکی فوج کے انخلا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ واقعات واشنگٹن کی فوجی پالیسی کی ناکامیوں کی یاد دلاتے ہیں۔ اسی طرح افغانستان پر ہزاروں ٹن بم برسانے کے بعد امریکی فوج کا اچانک انخلا بھی اس کی مشکلات کو ظاہر کرتا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کا مقصد اس کے جوہری اور میزائل پروگرام کو ختم کرنا اور موجودہ نظام حکومت کو گرانا بتایا گیا تھا، لیکن یہ مقاصد حاصل نہیں ہوسکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ہر حملے کا جواب دیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی عوام نے ہتھیار نہیں ڈالے اور نہ ہی ان کی مزاحمت کمزور ہوئی ہے۔

الجزیرہ نے ایران پر عائد موجودہ پابندیوں کا موازنہ عراق پر عائد پابندیوں سے بھی کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا نے عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد اس ملک پر سخت پابندیاں عائد کی تھیں اور خوراک و ادویات کی رسد بھی بری طرح متاثر ہوئی تھی، لیکن ایران کی صورت حال مختلف ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران رقبے کے لحاظ سے عراق سے کئی گنا بڑا ملک ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے بیشتر ہمسایہ ممالک تہران کی موجودہ حکومت کے دشمن نہیں ہیں۔ ایران کی طویل زمینی سرحدیں پاکستان، افغانستان، ترکمانستان، آذربائیجان اور عراق سے ملتی ہیں، جبکہ عراق کے راستے بھی ایران کو اپنی ضروری اشیا حاصل کرنے کے مواقع میسر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران کی شمال میں تقریباً 700 کلومیٹر طویل سمندری حدود بھی ہیں اور وہ شمالی ملکوں، خصوصاً روس، کے ساتھ رابطے میں ہے۔ اسی وجہ سے امریکہ پابندیوں کو چاہے جتنا سخت کر لے، ایران کو جھکانا آسان نہیں ہوگا۔

الجزیرہ نے موجودہ صورت حال کے ایک اہم پہلو کی جانب بھی توجہ دلائی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب اس بات پر زیادہ بحث ہو رہی ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کیسے کھولا جائے، حالانکہ آبنائے ہرمز اس جنگ کے آغاز کی وجہ نہیں تھی۔

رپورٹ کے مطابق اس کے مقابلے میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے اصل مقاصد پر نسبتاً کم بات ہو رہی ہے۔

News ID 1941196

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha